Sunday, February 17, 2019
News Code : 354834 | Publish Date :2019/2/14 - 11:54 | Category: Urdu News
پاکستان کے شہر اسکردو کے امام جمعہ:
تمام مشکلات کے باوجود آج امام خمینی(ره)کا پیغام ساری دنیا تک پہنچ گیا ہے
حوزہ/ حجۃ الاسلام و المسلمین شیخ محمد حسن جعفری نے کہا: دشمنان انقلاب اسلامی نے ان چالیس سالوں میں انقلاب اسلامی کو کمزور کرنے کی تمام تر کوشش کیں کیونکہ وہ پیغام انقلاب کے صدور سے ڈرتے تھے لیکن آج تمام مشکلات کے باوجود امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کاپیغام ساری دنیا تک پہنچ گیا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے شہر اسکردو کے امام جمعہ، آیت اللہ سیستانی اور رہبر انقلاب اسلامی کے وکیل،  امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ اور شہید سید محمد باقر الصدر کے شاگرد نے حوزہ نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے انقلاب اسلامی ، آیت اللہ شہید باقر صدر اور مسلمانوں کو آیت اللہ سیستانی کی نصیحتوں کے متعلق گفتگو کی۔

حجۃ الاسلام و المسلمین شیخ حسن جعفری نے اس گفتگو میں کہا کہ اسکردو صوبہ بلتستان کا شہر ہے اس خطے میں جرائم نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اس شہر کے اکثر لوگ شیعہ اثنا عشری ہیں۔ اس علاقے کے لوگ اخلاقی و سماجی برائیوں سے دور ہیں۔ اس کا سبب اس خطے کا لوگوں کی دینی اقدار اور اخلاقی اصولوں پر عمل پیرا ہونا،  شرعی اور مدنی قوانین پر عمل کرنا اور یہاں کے لوگوں کا مراجع عظام اور علمائے کرام سے سو سالوں سے رابطہ قرار دیا ہے۔ جس کی بنا پراس علاقے میں تکفیری گروہوں کی کوئی جگہ نہیں ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کے نمائندے نے شہر اسکردو کے امام جمعہ سے سوال کیا: سنا ہے آپ نے چند روز قبل آیت اللہ سیستانی سے ملاقات کی ہے اس ملاقات میں انہوں نے کن مسائل کے متعلق گفتگو کی؟

حجت الاسلام و المسلمین شیخ حسن جعفری نے کہا:جی ہاں! چند روز قبل میں نے آیت اللہ سیستانی سے ملاقات کی۔انہوں نے پاکستان کے حالات کے متعلق پوچھا۔  میں نے جب پاکستان کے حالات بیان کیے تو آیت اللہ سیستانی نے کہا:  میں ہر روز صبح(جو دعا قبول ہونے کا وقت ہے) مسلمانوں اور شیعیان پاکستان کے لئے دعا کرتا ہوں اور ان کی نصیحت تھی کہ ہمیشہ اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ اتحاد و وحدت کے ساتھ زندگی بسر کریں۔

حوزہ نیوز ایجنسی : آپ کی نظر میں انقلاب اسلامی سے دشمن کے ہارنے کی وجہ کیا ہے؟۔

حجت الاسلام و المسلمین شیخ حسن جعفری: ان چالیس سالوں میں انقلاب اسلامی کے دشمنوں نے اس انقلاب کو کمزور کرنے کی تمام تر کوششیں کیں اور یہ کوششیں اس وجہ سے تھیں کہ انھیں  خوف تھا کہ کہیں انقلاب اسلامی کا پیغام دنیا تک نہ پہنچ جائے لیکن آج  تمام مشکلات کے باوجود امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کا پیغام پوری دنیا تک پہنچ چکا ہے۔

انہوں نے کہا: یہ بات بھی میں کہتا چلوں کہ دشمن کبھی انقلاب اسلامی کی دشمنی سے پیچھے نہیں ہٹے گا کیونکہ انہیں اسرائیل کی نابودی کا کھٹکا ہے۔

انہوں نے کہا: اس اسلامی نظام کو آج جن مشکلات کا سامنا ہے وہ ہمیشہ نہیں رہیں گی بلکہ ختم ہو جائیں گی کیونکہ عراق اور شام جیسے ممالک میں ہم نے دیکھا ہے کہ دشمنان اسلام کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

شہر اسکردو کے امام جمعہ نے کہا: دشمن کی انقلاب اسلامی سے تمام مشکلات کی وجہ یہ ہے کہ اسے خوف ہے کہ کہیں یہ انقلاب پوری دنیا میں صادر نہ ہو جائے لیکن فرمان الہی’’ يُريدُونَ لِيُطْفِؤُا نُورَ اللَّهِ بِأَفْواھِھِمْ وَ اللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَ لَوْ کَرِهَ الْکافِرُونَ‘‘ کے مطابق دشمن اپنے تمام تر مکر وفریب کے باوجود اس کام میں کامیاب نہیں ہوگا۔

ہم نے شام میں دیکھا ہے کہ اسی انقلاب سے متاثر ہوکر شام کے لوگوں نے ثابت قدمی دکھائی اور دشمن کو بھاگ جانے پر مجبور کردیا۔

انہوں نے کہا: دشمن پوری طاقت سے دنیا میں انقلاب کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کے لئے کام کر رہا ہے اور استعمار کے ناپاک عزائم سے مقابلہ مسلمانوں کا شیوہ  اور سیرت رہی ہے۔ انشاءاللہ انقلاب اسلامی اس طرح پوری طاقت سے ترقی کرے گا اور الہی پیغام کو پہنچانے میں کامیاب ہو گا۔

حوزہ نیوز ایجنسی:  امام خمینی رحمتہ اللہ علیہ کی نجف اشرف میں جلاوطنی کے وقت آپ بھی نجف میں تھے اگر امام خمینی رحمتہ اللہ علیہ کے متعلق آپ کے ذہن میں کوئی یادگار واقعہ ہے تو بیان کیجیئے۔

حجۃ الاسلام شیخ حسن جعفری:  ہم ہمیشہ نماز مغربین امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی اقتداء میں ادا کرتے تھے۔اگر کوئی سوال ہوتا تو وہ امام سے پوچھتے تھے۔ قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ اس زمانے میں اردو زبان میں ’’رضا کار‘‘ نامی ایک روزنامہ امام کے پاس آتا تھا اور امام چونکہ اردو نہیں جانتے تھے لیکن روزنامہ میں جن حساس چیزوں کی طرف وہ کچھ متوجہ ہوتے تو اس پر علامت لگا کر ہمارے پاس ترجمہ کے لیے بھیج دیتے تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب انقلاب ابھی کامیاب نہیں ہوا تھا اور وہ بھی رہبر نہیں تھے لیکن وہ شروع سے  ہی مسلمانوں کی فکر میں تھے اور ہمیشہ مسلمانوں کے مسائل سے باخبر رہتے تھے۔

حوزہ نیوز ایجنسی:  آپ شہید باقر الصدر رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد ہیں۔ ان کے متعلق آپ کیا فرمائیں گے؟

حجۃ الاسلام شیخ حسن جعفری : ہم شہید صدر رحمۃ اللہ علیہ کے درس اخلاق میں شرکت کرتے تھے۔  ان کے گھر میں بھی ہمارا آنا جانا تھا۔  شہید صدر محمد باقر الصدر اخلاق کا نمونہ تھے۔  سب کے احترام کے لئے کھڑے ہوجاتے۔ وہ اخلاق اہل بیت علیہم السلام کے آئینہ اور نابغۂ روزگار تھے۔ وہ فلسفہ کے مسائل کو بڑی آسانی سے حل کردیتے تھے۔ ہر شخص اپنی علمی مشکل کو حل کرنے کے لئے شھید صدر کی طرف رجوع کرتا تھا۔  نہ صرف عراق بلکہ لیبیا، تیونس اور مختلف ممالک کے علم کے پیاسے افراد اس علم کے دریا کی طرف رجوع کرتے تھے۔ میرے بلتستان واپس لوٹنے اور وہاں پر دینی سرگرمیاں شروع کرنے کے بعد شہید صدر رحمۃ اللہ علیہ نے مجھے خط لکھا اور اس خط میں مجھے ’’نورالعین‘‘ سے خطاب کیا۔

Send Comment
Name :
Email:
Comment:
Send
View Comments