Thursday, December 13, 2018
News Code : 353513 | Publish Date :2018/10/6 - 13:22 | Category: Urdu News

ہندو مذہبی پیشواوں کا نریندر مودی کو الٹی میٹم ،چار ماہ میں متنازعہ بابری مسجد کے جگہ رام مندر کی تعمیر کلیے راستہ صاف ہوجانا چاہیئے
حوزه/ رام مندر کی تعمیر پر دہلی میں منعقد ہندو مذہبی پیشواوں کی ایک انتہائی اہم میٹنگ میں سنتوں کی اعلیٰ اختیاری کمیٹی نے مرکز کی مودی حکومت کو ایودھیا میں رام مندر تعمیر کے لیے چار مہینے کا الٹی میٹم دیا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی بین الاقوامی سروس کی رپورٹ کے مطابق رام مندر اور بابری مسجد کی کیس کے متعلق دہلی میں منعقد ہندو مذہبی پیشواوں کی ایک انتہائی اہم میٹنگ میں سنتوں کی اعلیٰ اختیاری کمیٹی نے مرکز کی مودی حکومت کو ایودھیا میں رام مندر تعمیر کے لیے چار مہینے کا الٹی میٹم دیا ہے۔

انہوں نے واضح لفظوں میں مودی حکومت کو 31 جنوری تک مندر تعمیر کا راستہ تلاش کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ رام مندر کے لیے عدالت کے فیصلے کا انتظار نہیں کیا جا سکتا ہے۔میٹنگ میں رام مندر تعمیر پر آرڈیننس لانے کے لیے حکومت پر دباو بنانے کا بھی فیصلہ لیا گیا ہے۔

میٹنگ میں طے کیا گیا کہ اگر حکومت طے مدت میں کوئی فیصلہ نہیں لیتی ہے تو نومبر میں سبھی اراکین پارلیمنٹ سے ملاقات کر مندر تعمیر کے ایشو کو پارلیمنٹ میں اٹھانے کا دباو بنایا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی میٹنگ میں صدر جمہوریہ اور وزیر اعظم سے ملاقات کرنے کا بھی فیصلہ لیا گیا۔

اس کے ساتھ ہی میٹنگ میں یہ بھی تجویز پاس ہوئی کہ جس دن بابری مسجد منہدم کی گئی تھی، یعنی ’گیتا جینتی‘ (اس بار 18 دسمبر) کے روز سے ایک ہفتہ تک ملک کے سبھی مٹھوں، مندروں، آشرموں، گرودواروں اور گھروں میں رام مندر تعمیر کے لیے مقامی روایت کے مطابق تقریب کا انعقاد کرایا جائے۔

واضح رہے بھارتی ریاست اترپردیش کے شہر ایودهیا میں 6 دسمبر 1992ء کو انتہا پسند ہندوؤں کے ایک گروہ نے سولهویں صدی میں تعمیر شده بابری مسجد کو منہدم کر دیا۔ یہ سانحہ ایودھیا میں منعقد سیاسی جلسے کے بعد پیش آیا جب جلسے نے پرتشدد رخ اختیار کر لیا۔

Send Comment
Name :
Email:
Comment:
Send
View Comments