Tuesday, November 20, 2018
News Code : 353067 | Publish Date :2018/9/2 - 10:10 | Category: Urdu News
حجت الاسلام و المسلمین حسینی قزوینی:
واقعۂ غدیر کا اصلی ترین ہدف ولایت کے مقام کو بیان کرنا ہے۔
حوزہ / حضرت ولی عصر(عج) ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے سربراہ نے کہا: مسئلہ ولایت نماز، روزہ، حج اور زکوۃ کی طرح نہیں ہے اور پیغمبر اسلامﷺ غدیرِ خم میں لوگوں کو آگاہ کرنا چاہتے تھے کہ ولایت؛ توحید، معاد اور نبوت کے زمرے میں آتی ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق ایران کے نامور عالم دین اور دینی علوم کے ماہر حجت الاسلام و المسلمین سید محمد حسینی قزوینی نے گذشتہ رات حرم حضرت معصومہؑ (قم) میں گفتگو کرتے ہوئے کہا: حضرت علیؑ کے مقام کے متعلق وہ افراد گفتگو کر سکتے ہیں جو الہی علوم کے چشمے سے متصل ہیں۔

انہوں نے امیرالمومنین حضرت علیؑ کے مقام کے متعلق حدیث نبویؐ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: پیغمبر اکرمﷺ نے فرمایا: اے علیؑ! خدا کو تیرے اور میرے سوا کسی نے نہیں پہچانا اور میرے اور خدا کے علاوہ کسی نے امیرالمومنین حضرت علیؑ کو بھی نہیں پہچانا۔

حجت الاسلام و المسلمین حسینی قزوینی نے کہا: جو کچھ امام علیؑ سے روایات  میں بیان ہوا وہ لوگوں کی فہم و فراست کے مطابق ہے اور غلو کے خوف سے آپکے تمام فضائل لوگوں کے سامنے بیان نہیں ہوئے ہیں انهوں نے مزید کہا اہلبیت کی شناخت اور ان کےمتعلق غلو سے محفوظ رہنے کے لئے اہلبیتؑ کی بندگی اور ان کے عبدِ خدا ہونے کو فراموش نہیں کرناچاہئے۔ امیرالمومنین حضرت علیؑ فرماتے ہیں: ہمیں ربوبیت کی حد تک نہ لے جائیں۔ہمارا شمار خدا کے بندوں میں ہوتا ہے اور اس سے ہٹ کر جو ہمارے فضائل جانتے ہیں انہیں بیان کریں۔

بین الاقوامی ولایت چینل کے سابق سربراہ نے کہا: حضرت علیؑ کی ولایت متعدد بار لوگوں کے سامنے بیان ہوئی ہے اور یہ مسئلہ پہلی بار پیغمبر اکرمﷺ کی رسالت کے پہلے سال اہلِ قریش کے چالیس افراد کے سامنے بیان ہوا ۔

انہوں نے فتح مکہ کے بعد کے واقعات اور امیرالمومنین حضرت علیؑ سے خالد بن ولید کے حسد کے واقعے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: جب کچھ لوگ حضرت علیؑ کی شکایت لے کر پیغمبر اسلامﷺ کے پاس حاضر ہوئے تو پیغمبر اکرمﷺ نے ان سے فرمایا: علیؑ مجھ سے ہےاور میں علیؑ سے ہوں اور وہ میرے بعد ولی ہیں۔

ولی عصر(عج) ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے سربراہ نے کہا: واقعہ غدیر ِ خم کے بارے میں اہلسنت کے منابع میں آیا ہے کہ تقریباً ۱۲ ہزار افراد نے شدید گرمی میں تین دن تک توقف کیا اور پیغمبر اکرمﷺ نے ان سے تین گھنٹے مسلسل خطاب کیا۔

انہوں نے کہا: اب یہاں پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ جس مسئلے کو پیغمبر اسلامﷺ اس سے پہلے متعدد بار بیان کر چکے تھے اب اس مسئلے کو دوبارہ بیان کرنے کے لئے لوگوں کو کیوں روکا؟ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پیغمبر اکرمﷺ کے نزدیک اس مسئلے کی اہمیت بہت زیادہ تھی۔

حجت الاسلام و المسلمین حسینی قزوینی نے کہا:تاریخ اور دانشور حضرات اس بات کا جواب دیں کہ غدیرِ خم میں پیغمبر اسلامﷺ کے انتہائی اہم خطبے کو بعض مؤرخین اور بعض اہلسنت کی کتب نے انتہائی اختصار کے ساتھ بیان کیا ہے۔البتہ واقعۂ غدیر خم کی حقانیت اس مختصر بیان سے بھی ثابت ہو جاتی ہے۔

انہوں نے آخر میں کہا: مسئلہ ولایت نماز، روزہ، حج اور زکوۃ کی طرح نہیں ہے اور پیغمبر اسلامﷺ غدیرِ خم میں لوگوں کو آگاہ کرنا چاہتے تھے کہ ولایت؛ توحید، معاد اور نبوت کے زمرے میں آتی ہے۔

Send Comment
Name :
Email:
Comment:
Send
View Comments