Friday, April 20, 2018
News Code : 351656 | Publish Date :2018/4/17 - 02:27 | Category: Urdu News
سربراہ مرکز انساب قم:
صدام حسین اور قذافی کی طرح ملکہ برطانیہ کا شجرہ سادات جعلی ہے۔
حوزه د نیوز/ حجت السلام والمسلمین رجائی نے حوزہ نیوز کو دیئے گئے انٹرویو میں برطانیہ کے ملکہ کو مغربی میڈیا کی جانب سے سیدہ قرار دینے پر سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مغربی ذرائع ابلاغ کا ادعا جھوٹ پر مبتنی ہے، ایسی خبروں کی کوئی بھی قانونی اور شرعی حیثیت نہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی، سربراہ مرکز انساب قم حجت السلام والمسلمین رجائی نے حوزہ نیوز کو دیئے گئے انٹرویو میں برطانیہ کے ملکہ کو مغربی میڈیا کی جانب سے سیدہ قرار دینے پر سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مغربی ذرائع ابلاغ کا ادعا جھوٹ پر مبتنی ہے، ایسی خبروں کی کوئی بھی قانونی اور شرعی حیثیت نہیں۔

انھوں نے کہا کہ سادات کا مسئلہ ایک شرعی مسئلہ ہے جس کا ذکر تمام مجتہدوں نے فقہی مسئلے کے ضمن میں کیا ہے۔ سید محمد کاظم زیدی نے بھی اپنی کتاب عروہ الوثقی کے خمس اور زکات کے باب میں اس مسئلے کی طرف اشارہ کیا ہے۔

حجت الاسلام والمسلمین رجائی کا مزید کہنا تھا کہ علما اور فقہا کے مطابق سید اسے کہا جاتا ہے کہ یہ شہرت حاصل ہو کہ ان کے نسل در نسل سید قطعی ہو اور اس کے محلہ والوں سے اس فرد کے بارے میں پوچھا جائے تو قطعی جواب دیں کہ ہاں یہ سید ہے اور یہ بھی لوگوں کے درمیان معروف ہو کہ معصومین(ع ) سے آج تک ان کا خاندان سید کے نام سے معروف ہے۔

انہوں نے کہا کہ شجرہ نامہ فقط سیدوں سے مخصوص ہے اور غیر سادات کا کوئی شجرہ نامہ نہیں ہے۔

انھوں نے ملکہ برطانیہ کی شجرہ نامے کو جعلی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ شجرہ نامہ فقط ایک جعلی شجرہ نامہ ہے کیونکہ شجرہ نامے میں 42 نفر کا ذکر ہوتا ہیں لیکن اس جعلی شجرہ نامے میں ایسا کچھ نہیں ہے۔

انھوں نے اس مسئلے کو دشمن کی طرف سے سید جیسے مقدس نسب کے خلاف سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے کو دشمن کہ جانب سے ایک سازش کے تحت اچھالا گیا ہے تاکہ سیدوں کی اہمیت کو معاشرے میں کم کیا جائے اور سب جانتے ہیں کہ اس مسئلے میں کوئی شرعی، قانونی اور نسبی دلیل موجود نہیں ہے۔

انھوں نے عوام سے مطالبہ کیا کہ دشمن کی ایسی سازش کے زد میں نہ آئیں۔

انھوں نے اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لئے کہا کہ مجتہدین بہت جلد ایک ادارہ بنام "دارالنقابه" تاسیس کریں جس سے دشمن کو بروقت جواب دیا جائے۔

Send Comment
Name :
Email:
Comment:
Send
View Comments