Thursday, April 19, 2018
News Code : 351557 | Publish Date :2018/4/10 - 20:05 | Category: Urdu News
سید حسن نصر اللہ
فلسطینی قوم کے صبر اور صیہونی حکومت کیخلاف انکی مزاحمت کو سلام پیش کرتے ہیں
سیکرٹری جنرل حزب اللہ لبنان نے قابض صیہونی فوج کے مقابلے میں فلسطینی ملت کی بھرپور مزاحمت کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل اپنی پوری قوت کے ساتھ مزاحمت کی نابودی کیلئے کوششیں کررہے ہیں۔ سید حسن نصر اللہ نے جنوبی لبنان کے شھر نبطیہ میں تقریر کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ ۱۱ ستمبر کے واقعے کے بعد امریکی نمائندہ میرے پاس آیا اور اس نے کہا کہ اگر آپ اسرائیل کے مقابلے میں مزاحمت سے دستبردار ہوجائیں تو جو کچھ آپ چاہیں گے ہم آپ کیلئے انجام دیں گے۔

حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے کہا ہے کہ تحریک امل اور حزب اللہ کے اتحاد کی یہ برکت ہے کہ 2000ء میں جنوبی لبنان قابض صیہونی حکومت کے قبضے سے آزاد ہوا۔ امریکہ اور صیہونی حکومت نے بھرپور کوشش کی ہے کہ وہ لبنان میں مزاحمت کو ختم کر سکے۔ ہمیں چاہیئے کہ موجود نسل کو گذشتہ نسل کے اس درد و الم سے آگاہ کریں جو صیہونی حکومت کے ہاتھوں انہوں نے برداشت کیا ہے۔ یہ مقاومتی فورسز ہی تھیں کہ جنہوں نے صیہونی قابض فوجیوں کو جنوبی لبنان سے بےدخل کیا۔ سید مقاومت نے کہا کہ جس دن سے قابض فورسز لبنان سے باہر نکالی گئیں اسی دن سے انہوں نے مقاومت کے خلاف اپنی سازشوں کا آغاز کردیا۔ جنوبی لبنان کے شہریوں اور مزاحمتی فورسز نے حکمت، علم اور اپنے اچھے اخلاق کے ذریعے مزاحمت کے راستے کو آگے بڑھایا اور ان سازشوں کا مقابلہ کیا۔

حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل نے امریکی صحافی جارج نادر کا نام فاش کرتے ہوئے کہا کہ کہ ۱۱ ستمبر کے واقعے کے بعد ڈیک چینی کے نمائندے کی حیثیت سے ایک امریکی نمائندہ میرے پاس آیا اور اس نے کہا کہ اگر آپ اسرائیل کے مقابلے میں مزاحمت سے دستبردار ہو جائیں تو جو کچھ آپ چاہیں گے ہم آپ کیلئے انجام دیں گے۔ سید حسن نصراللہ نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ مزاحمت کے خلاف ہر سازش کے مقابلے میں سب سے خطرناک چیز داخلی مقابلہ ہے مزید کہا کہ 2005ء میں امریکہ نے لبنان کے فوجی افسروں اور سپاہیوں کے بارے میں ایک سروے کروایا کہ جس میں اس بات کا جائزہ لیا گیا کہ مقاومتی فورسز کے خلاف آپریشن کی صورت میں انکا نفسیاتی ردعمل کیا ہو گا اور اس سروے کے بعد وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ لبنانی فوج اس کام کو انجام نہیں دے گی۔ سید حسن نصراللہ کا کہنا تھا کہ لبنان میں اور لبنان سے باہر امریکہ اور عرب خلیجی ممالک میں ایسے افراد موجود ہیں کہ جو لبنانی فوج اور مقاومتی فورسز کے درمیان لڑائی کروانا چاہتے ہیں، صیہونی غاصب فوج کی دھمکیوں کے خلاف ہمارے پاس فوج، ملت اور مزاحمت کے اتحاد کی صورت میں ایک مضبوط نظام موجود ہے۔

سید حسن نصر اللہ نے کہا ہمیں فوج، ملت اور مقاومتی فورسز کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ ہمیں قومی وحدت مخصوصا جنوبی لبنان کے اندر تحریک امل اور حزب اللہ کے درمیان اتحاد کو مزاحمت کی حمایت کیلئے مزید مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔ حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل نے عوام سے موجود انتخابات کے اندر بھرپور شرکت کرنے کی اپیل کی اور کہا کہ ہمیں چاہیئے کہ ایسے امیدواروں کو ووٹ دیں کہ جو مقاومت کے نظریہ کے حامی ہوں اور مزاحمتی فورسز کی حمایت کرتے ہوں۔ سید حسن نصراللہ نے لبنانی عوام کی جانب سے غزہ کے لوگوں کو مقبوضہ سرزمین کی سرحد پر مظاہرے کرنے پر مبارکباد پیش کی اور کہا کہ ہم آپ غزہ کے شجاع اور مزاحمت کے حامی عوام کو آپکی شجاعت پر مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ آپ کا یہ اقدام تمام شہداء اور زخمی ہونے والوں کی خاطر انجام پایا ہے اور ان مظاہروں میں جو لوگ بھی شامل ہوئے ہیں اور مختلف مزاحمتی گروہوں کے لیڈرز کہ جنہوں نے یہ شجاعت بھرا کام کیا ہے ان سب کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور آپ کا یہ کام اس صدی کے معاملات میں صیہونی حکومت کے منہ پر بھرپور تمانچہ ہے۔

حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل نے یمن کے خلاف سعودی عرب کے وحشیانہ حملوں کے چار سال مکمل ہونے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یمن کے لوگوں کی سعودی اور امریکی وحشیانہ جنگ کے مقابلے میں مزاحمت انتہائی شجاعانہ اقدام ہے اور یمن کی عوام ان ظالم قوتوں کے مقابلے میں بھرپور انداز میں ڈٹی ہوئی ہے۔ یمن کے لوگ اپنے ملک کا دفاع کر رہے ہیں کہ جس کے باعث ہمیں یمن کی عوامی کمیٹی کے اراکین اور ان کے رہبر کو مبارکباد پیش کرنی چاہیئے کہ جس کے وہ مستحق ہیں۔

Send Comment
Name :
Email:
Comment:
Send
View Comments